اب میں آزاد ہوں

ROHAAN

Senior Member
Aug 14, 2016
907
602
393
اب میں آزاد ہوں

بیوی کو شادی کے چند سال بعد خیال آیا کہ اگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے تو شوہر کیسا محسوس کرے گا یہ خیال اس نے کاغذ پر لکھا اب میں تمہارے ساتھ اور نہیں رہ سکتی میں اب بور ہو گئی ہوں تمہارے ساتھ میں گھر چھوڑ کے جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے اس کاغذ کو اس نے میز پر رکھا اور جب شوہر کے آنے کا ٹائم ہوا تو اس کے رد عمل دیکھنے کے لئے بستر کے نیچے چھپ گئی شوہر آیا اور اس نے میز پر رکھا کاغذ پڑھا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اس کاغذ پر کچھ لکھا پھر وہ خوشی کے مارے جھومنے لگا گیت گانے لگا، رقص کرنے لگا اور کپڑے بدلنے لگا پھر اس نے اپنے فون سے کسی کو فون لگایا اور کہا آج میں آزاد ہو گیا شاید میری بیوقوف بیوی کو سمجھ آ گیا کہ وہ میرے لائق ہی نہیں تھی لہذا آج وہ گھر سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی اس لئے اب میں آزاد ہوں اور تم سے ملنے کے لئے میں آ رہا ہوںکپڑے بدل کر تم بھی تیار ہو کے
میرے گھر کے سامنے والے پارک میں ابھی آ جاؤ شوہر باہر نکل گیا
آنسو بھری آنکھوں سے بیوی بستر کے نیچے سے نکلی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذ پر لکھی لائن پڑھی جس پر لکھا تھا بیڈ کے نیچے سے پاؤں دکھائی دے رہے ہیں باولی پارک کے قریب والی دکان سے بریڈ لے کے آ رہا ہوں تب تک چائے بنا لینا
میری زندگی میں خوشیاں تیرے آنے سے ہے
آدھی تجھے ستانے سے ہے
آدھی تجھے منانے سے ہے
 
Top