اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے

Dark

Darknes will Fall
VIP
Jun 21, 2007
28,878
12,573
1,313
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے

گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہوگئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے

مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے

بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے

تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے

اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے

تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے

پروین شاکر
 
  • Like
Reactions: nrbhayo
Top