علم اور علماء کی فضیلت

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
علم اور علماء کی فضیلت
قَالَ مُحَمَّدُ ابْنِ عَلِیٍّ عَلَیْہِمَا السَّلااَامُ عَالِمٌ یَنْتَفِعُ بِعِلْمِہ اَفْضَلٌ مِنْ سَبْعِیْنَ اَلْفَ عَابِدٍ
ترجمہ:۔
امام محمد باقر-نے فرمایا"ایسا عالم جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتا ہے ستر ہزار عابد سے بہتر ہے"
مولف(محدث شیخ عباس قمی)فرماتے ہیں کہ علم اور علماء کی فضیلت میں بے شمار روایات ہیں جن میں سے ایک روایت یہ ہے ۔
" ایک عالم افضل ہے ہزار عابد سے اور ہزار زاہد سے۔اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی سورج کی باقی ستاروں پر اور ایک رکعت نماز جو عالم فقیہ پڑھتا ہے عابد کی ستر ہزار رکعت سے افضل ہے اور علم کے ساتھ سو جانا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے جب ایک مومن مرے اور ایک ورقہ چھوڑجائے جس پر علم لکھا ہوا ہو تووہ ورقہ قیامت کے دن اس شخص کے اور آگ کے درمیان پردہ بن جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ ہر لفظ کے بدلے میں(جو ورقہ میں لکھا ہوا ہے)اسے ایک شہر عطا کرے گا۔جو دنیا سے سات گنا بڑا ہو گا۔اور جب عالم مرتا ہے تو اس پر فرشتے روتے ہیں،وہ زمین روتی ہے جہاں جہاں اس نے خدا کی عبادت کی تھی اور آسمان کے وہ دروازے روتے ہیں جن سے گزر کر اس کے اعمال اوپر جاتے تھے اور اسلام میں ایک ایسا رخنہ اور شگاف سا پڑ جاتا ہے۔جسے کویٴ چیز پر نہیں کر سکتی کیونکہ مومن علماء ان قلعوں کی طرح اسلام کے قلعے ہیں جو شہر کے ارد گرد بنائے جاتے ہیں۔اور علماء کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا ثواب کئی گنا ہوتا ہے ۔اسی طرح علماء کو صدقہ دینا بھی کئی گنا ثواب رکھتا ہے۔
چنانچہ شیخ شہیدنے روایت نقل کی ہے۔کہ
"مسجدجامع کے علاوہ کسی جگہ پر عالم کے پیچھے نماز پڑھیں تو دو ہزار رکعت کا ثواب ملتا ہے اور جامع مسجد میں نماز پڑھیں تو ایک لاکھ رکعت کا ثواب ملتا ہے"۔
حضور اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کا فرمان ہے :
"علماء کو ایک روپیہ صدقہ دینا سات ہزار روپے کے برابر ہے اور علماء کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے"۔
مولا علی-کا فرمان ہے:
"ایک گھڑی علماء کے ساتھ بیٹھنا خدا کو ہزار سال کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔اور علماء کے گھر کے دروازے کی طرف دیکھنا عبادت ہے"۔
اور حضرت علی-کا فرمان ہے
"عالم کی طرف دیکھنا خدا کے نزدیک خانہ کعبہ میں اعتکاف سے زیادہ پسندیدہ ہے"
(مولف شیخ عباس قمی )فرماتے ہیں کہ یہ بات مخفی نہ رہے کہ علم کی فضیلت اس وقت ہے ۔کہ اس کے ساتھ عمل بھی ہو۔اور یہ دونوں گرانبھا موتی اکٹھے ہوں۔
قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ "اَشْقَی النَّاسَ مَنْ ھُوَ مَعْرُوْفٌ عِنْدَ النَّاسِ مَجْھُوْلٌ بِعَمَلِہ"
ترجمہ:۔
حضرت عیسیٰ- نے فرمایا کہ"لوگوں میں سب سے زیادہ شقی اور بد بخت وہ ہے جو لو گوں کے نزدیک علم میں معروف و مشہور ہو اور عمل میں مجہول (اور غیر معروف )ہو"۔
 
  • Like
Reactions: nrbhayo
Top