علم تجوید اور اسکی اہمیت و ضرورت

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
علم تجوید اور اسکی اہمیت و ضرورت


تجوید کے معنیٰ ہیں بہتر اور خوبصورت بنانا۔

تجوید اس علم کا نام ہے جس سے قرآن مجید کے الفاظ اور حروف کی بہتر سے بہتر ادائیگی اور آیات و کلمات پر وقف کے حالات معلوم ہوتے ہیں۔

اس علم کی سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان اپنی خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی رکھتی ہے کہ اس کا طرز ادا لہجہٴ بیان دوسرى زبانوں سے مختلف ہو تا ہے اور یہی لہجہ اس زبان کی شیرینی، چاشنی اور اسکی لطافت کا پتہ دیتا ہے۔

جب تک لہجہ و انداز باقی رہتا ہے زبان دلچسپ اور شیرین معلوم ہوتی ہے، اور جب وہ لہجہٴ ادا بدل جاتا ہے تو زبان کا حسب ختم ہو جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ کسی زبان کو سیکھتے وقت اور اس میں تکلم کا کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کے الفاظ اس شان سے ادا ہوں جس انداز سے اہل زبان ادا کرتے ہیں اور اس میں حتی الامکان وہ لہجہ باقی رکھا جائے جو اہل زبان کا لہجہ ہے اس لئے بغیر تجوید، زبان تو وہی رہے گی لیکن اہل زبان اسے زبان کی بربادی ہی کہیں گے۔

اردو زبان میں بے شمار الفاظ ہیں جن میں ”ت“ اور ”د“ کی لفظ آتی ہے اور انگریزى زبان میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے۔ انگریزى بولنے والا جب اردو کے ایسے لفظ کو استعمال کرتا ہے تو”تم“ کے بجائے ”ٹم“ اور ”دین“ کے بجاے ”ڈین“ کہتا ہے جو کسی طرح بھی اردو کہے جانے کے لائق نہیں ہے۔

یہی حال عربی زبان کا بھی ہے کہ اس میں بھی الفاظ و حروف کے علاوہ تلفظ و ادا کو بھی بے حد دخل ہے اور زبان کی لطافت کا زیادہ حصہ اسی ایک بات سے وابستہ ہے اس کے سیکھنے والے کا فرض ہے کہ ان تمام آداب پر نظر رکھے جو اہل زبان نے اپنی زبان کے لئے مقرر کئے ہیں اور ان کے بغیر تکلم اور ان کے بغیر تکلم کرکے وہ دوسرے کی زبان کا ستیاناس نہ کرے۔

علم تجوید کی عظمت

ایسے اصول و آداب اور اس طرح کی شرائط و قوانین کو پیش نظر رکھنے کے بعد پہلا خیال یہی پیدا ہوتا ہے کہ انسان ایسی زبان کو حاصل ہی کیوں کرے جس میں اس طرح کے قواعد ہوں اور جس کے استعمال کے لئے غیرمعمولی اور غیر ضرورى زحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے۔ ایک غیر مسلم تو یہ بات سوچ بھی سکتا ہے مسلمان کے امکان میں یہ بالکل نہیں ہے۔ مسلمان کی اپنی کتاب اور اس کا دستور زندگی عربی میں ہی نازل ہوا ہے۔ اسکی دنیا و آخرت کا پیغام عربی زبان ہی میں ہے۔ اور وہ دستور، قانون زندگی ہونے کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ اور اسکی برترى کی دلیل بھی ہے۔ اب اگر اس کتاب کو نظر انداز کر دیا گیا تو اسلام کا امتیاز ہی کیا رہے گا اور رسالت پیغمبر اسلام کو ثابت کرنے کا وسیلہ کیا ہوگا۔

قرآن صرف دستور حیات ہوتا تو ممکن تھا کہ انسان کسی طرح بھی تلفظ کرکے مطلب نکال لیتا اور عمل کرنا شروع کر دیتا۔ دستور زندگی معنی چاہتا ہے اس الفاظ کے حسن سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن قرآن کریم معجزہ بھی ہے، وہ قدم قدم پر اپنی طلاوت کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اپنی فصاحت و بلاغت کا اعلان بھی کرتا ہے اور اپنے وابستگان کو متوجہ بھی کراتا ہے کہ اس کے محاسن پر غور کریں اور اس کی خوبیوں کو عالم آشکار کریں۔

یہ نا ممکن ہے کہ کوئی شخص اس کے ماننے والوں میں شمار ہو اور اسکی طرف سے بے توجہ ہو جائے اور جب توجہ کرے گا تو تلاوت کرنا ہوگی۔ اور جب تلاوت کی منزل میں آئے گا توان تمام اصول و آداب کو سیکھنا پڑے گا جن سے زبان کا حسن و امتیاز ظاہر ہوتا ہے۔

قرآن مجید تو خود بھی ترتیل وغیرہ کا حکم دیتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہر طور تلاوت کرکے اپنے حسن کو پامال نہیں کرنا چاہتا اور اسکا منشاٴ یہی ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے تو انہیں شرائط و آداب کے ساتھ جن سے اس کی عظمت اور اس کا حسن وابستہ ہے۔

اس مقام پر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انسان ان امتیازات کے باوجود تلاوت قرآن نہ کرے اور بہت سے بہت ثواب سے محروم ہو جائے اس پر کوئی ایسا دباوٴ نہیں ہوتا کہ وہ تلاوت کی ذمہ دارى لیکر ان تمام مشکلات میں گرفتار ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اسلام نے نماز میں حمد و سورہ وغیرہ واجب کرکے اس آزادى کو بھی ختم کر دیا۔ اور واضح طور پر بتا دیا کہ تلاوت قرآن ہر مسلمان کا فرض ہے اور تلاوت عربی زبان کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ زبان کا عربی رہ جانا بھی اس بات پر موقوف ہے کہ اس کے آداب و شرائط کا لحاظ رکھا جائے اور اس میں کوئی ترمیم اور تبدیلی نہ کی جائے جس کے بعد یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ علم تجوید اپنی تفصیلات کے ساتھ نہ سہی لیکن ایک مقدار تک واجب ضرور ہے اور اس کے بغیر نماز کی صحت مشکل ہے اور نماز ہی کی قبولیت پر سارے اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ہے اب اگر کوئی شخص تجوید کے ضرورى قواعد کو نظر انداز کر دیتا ہے تو قراٴت قرآن کی طرح نماز کو برباد کرتا ہے اور جو نماز کو برباد کر تا ہے اس کے سارے اعمال کی قبولیت محل اشکال ہے اور یہی علم تجوید کی عظمت و برترى کی بہترین دلیل ہے۔

تجوید کے شعبے

علم تجوید میں مختلف قسم کے مسائل سے بحث کی جاتی ہے کبھی قرآن کے الگ الگ حروف کے بارے میں دیکھا جاتا ہے کہ ان کے ادا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کبھی مرکّب الفاظ کی ادائیگی کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور کبھی پورے پورے جملے کے بارے میں بحث ہوتی ہے اس کے ادا کرنے میں وقف و وصل کے اصول کیا ہونگے اور انہیں کس طرح ادا کیا جائےگا۔

تجوید کے مسائل سے با خبر ہونے کے لئے ان تمام انواع و اقسام پر نظر کرنا ہوگی اور ان سے باقاعدہ طور پر واقفیت پیدا کرنا ہوگی۔
 
  • Like
Reactions: nrbhayo
Top