غم نہ کرنے کے بارے میں

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
غم نہ کرنے کے بارے میں
سَاَلَ الصَّادِقُ بَعْضِ اَھْلِ مَجْلِسِہ فَقِیْلَ عَلِیْلٌ فَقَصََدَہ عَائِدًا وَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِہ فَوَجَدَہ دَنِفًا فَقَالَ لَہ اَحْسِنْ ظَنََّکَ بِاللّٰہِ قَالَ اِمَّا ظَنِّیْ بِاللّٰہِ فَحَسَنٌ وَٰلکِنْ غَمِّیْ لِبَنَاتِیْ مَا اَمَرَضَنِیْ غَیْرَ غَمِیْ بِھِنَّ فَقَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلااَامُ الَّذِیْ تَرْجُوْہُ لِتَضْعِیْفِ حَسَنَاتِکَ وَ مَحْوَ سَیِّائِتِکَ فَاَرْجِہ ِلااِاصْلااَاحِ حَالِبَنَاتِکَ اَمَّا عَمَلٌ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ قَالَ:
" لَمَّا جَاوَزْتُ سِدْرَةُ الْمُنْتَھٰی وَبَلَغْتُ قَضْبَانَھَا وَ اَغْصَانَھَا وَ رَأَیْتُ بَعْضَ ثِمَارِ قَضْبَانَھَا اَثْدَأُوْہُ مُعَلَّقَةٌ یَقْطُرُ مِنْ بَعْضِھَا اللَّبَنِ وَ مِنْ بَعْضِھَا الْعَسَلِ وَ مِنْ بَعْضِھَا الدُّھْنُ وَ مِنْ بَعْضِھَا شِبْہُ دَقِیْقِ السَّمِیَّدِ وَ مِنْ بَعْضِھَا الثِّیَابِ وَ مِنْ بَعْضِھَا کَالنَّبْقِ فَیَھْوِیْ ذَالِکَ کُلُّہ نَحْوَ الْاَرْضِ فَقُلْتُ فِیْ نَفْسِیْ اَیْنَ مَقَرٌّ ھٰذِہِ الْخَارِجَاتِ فَنَادَانِیْ رَبِّیْ یَا مُحَمَّد ھٰذِہ اُنْبِتُھَا مِنْ ھٰذَا الْمَکَانِ لِاُغْذِ وَ مِنْھَا بَنَاتِ الْمُوْٴمِنِیْنَ مِنْ اُمَّتِکَ وَ بَنِیْھِمْ فَقُلْ لِآبَآءِ الْبَنَاتِ لااَا تُضِیْقَنَّ صُدُوْرُکُمْ عَلٰی بَنَاتِکُمْ فَاِنِّیْ کَمَا خَلَقْتُھُنَّ اَرْزُقُھُنَّ" ۔
(سفینہ البحارصفحہ ۱۰۸،خرائج صفحہ ۲۸۴)
ترجمہ:۔
شیخ صدوق نے روایت کہ ہے کہ ایک دن امام جعفر صادق-نے اپنے صحابیوں میں سے ایک کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ مریض ہے۔ حضرت- اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے۔ حضرت- نے دیکھا کہ وہ مرنے کے نزدیک ہے تو فرمایا کہ خدا کے باے میں اچھا گمان رکھ ۔وہ مرد کہنے لگا کہ میرا گمان خداکے بارے میں اچھا ہے۔لیکن بیٹیوں کے لئے غمناک ہوں ۔ اور مجھے فقط ان کے غم نے بیمار کیا ہے۔ حضرت- نے فرمایا: وہ خدا جس سے اپنی نیکیوں کے دگنا ہونے اور اپنے گناہوں کے مٹنے کی امید رکھتے ہو۔ اسی سے اپنی بیٹیوں کے حال کی اصلاح کی امید رکھو کیا تجھے معلوم نہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
"شب معراج جب میں سدرة المنتہی سے گزرا اور جب سدرة المنتہی کی شاخوں کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ان شاخوں کے ساتھ بعض میوے لٹکے ہوئے ہیں اور بعض سے دودھ نکل رہا ہے اور بعض سے شہد اور بعض سے گھی اور بعض سے بہترین قسم کا سفید آٹا بعض سے لباس اور بعض سے بیری کی مانند کوئی چیز نکل رہی تھی اور یہ تمام چیزیں زمین کی طرف جارہی تھیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ چیزیں کہاں اتر رہی ہیں ۔ جبرئیل- بھی اس وقت میرے ساتھ نہ تھے۔ پس میرے سر کے اوپر سے آواز پروردگار نے مجھے ندادی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)میں نے اس درخت کو اس مقام پر اگایا ہے۔ جوتمام مکانات سے بلند ہے۔ اور یہ تیری امت میں سے مومنین کے بیٹوں اور بیٹیوں کی غذا ہے پس تم ہر بیٹی کے باپ کو کہہ دوکہ بیٹیا ں پیدا ہونے پر تمہارا دل تنگ نہیں ہونا چاہیے جس طرح میں نے ان کو پیداکیا ہے ان کو روزی بھی دوں گا"۔
شیخ عباس قمی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے ذیل میں سعدی مرحوم کے اشعار نقل کرنامناسب نظر آتا ہے۔
ترجمہ اشعار:۔
"ایک بچے کے دانت نکلنے لگے تو باپ سخت حسرت کر رہا تھا کہ اس کے لئے روٹی کہاں سے لاوٴں گا جب اس نے یہ بات اپنی عورت سے کہی تو اس عورت نے کیسا مردوں والا جواب دیا؟ کہ شیطان کے مرنے تک اس کے چکر میں نہ آنا جو دانت عطا کرتا ہے روزی بھی وہی دیتا ہے۔ جو خدا پیٹ کے اندر بچے کے نقش و نگار درست کرتا ہے وہ اس کی عمرمتعین کرنے اور اس کو روزی فراہم کرنے کا ذمہ دار بھی ہے اگر کوئی شخص غلام خرید لائے تو اس کو روٹی بھی کھلاتا ہے پس کس طرح ممکن ہے جو خدا غلام پیدا کرے اور اس کی روزی کا بندوبست نہ کرے تیرا خدا پر اتنا بھروسہ بھی نہیں جو غلام کو اپنے آقا پر ہوتا ہے"۔
 
  • Like
Reactions: nrbhayo
Top