میدان بدر میں فرشتوں کی مدد

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
میدان بدر میں فرشتوں کی مدد




جنگ بدر مسلمانوں کے لئے فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی، ان کی بقاء کا انحصار اسی میں کامیابی پر تھا، اس لئے اللہ پاک نے ان سے وعدہ فرمایا




إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلاَثَةِ آلاَفٍ مِّنَ الْمَلآئِكَةِ مُـنْـزَلِينَ o
بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلاَفٍ مِّنَ الْمَلآئِكَةِ مُسَوِّمِينَ o

(آل عمران : 124، 125)
جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے
ہاں اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاری قائم رکھو اور وہ (کفّار) تم پر اسی وقت (پورے) جوش سے حملہ آور ہو جائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا



اسی جنگ میں اہل مکہ میدان بدر پر پہلے ہی آکر قابض ہوگئے تھے اور پانی کے علاوہ سخت زمین پر بھی قبضہ کر لیا تھا جہاں وہ آسانی کے ساتھ چلتے پھرتے تھے۔ جب مسلمان بدر میں پہنچے تو ان کے حصے میں ریتلی زمین آئی جس میں پاؤں دھنس جاتے تھے۔ چلتے وقت بہت دشواری پیش آتی تھی پھر پانی کی قلت نے انہیں اور پریشان کردیا، اس موقعہ پر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ تم خود کو حق پر سمجھتے ہو حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ پینے کے لئے پانی اور چلنے کے لئے جگہ بھی تمہارے پاس نہیں؟


اس نظام سے وابستہ کارکن فرشتوں کو اسی وقت حکم ہوا اور وحی کی گئی کہ ایمان داروں کی مدد کو پہنچو اور ان کی ڈھارس بندھانے اور انہیں ثابت قدم رکھنے کے لئے حرکت میں آجاؤ۔


اس مدد کا ظہور اس طرح ہوا کہ تلواروں کے سائے میں مسلمانوں کو نیند آ گئی اور اس نیند کا اتنا غلبہ ہوا کہ آگے پیچھے کا ہوش نہ رہا، اس گہری اور پرسکون نیند کے اثر سے وہ تازہ دم ہوگئے۔ پھر بارش ہوئی تو ان کی طرف کی ریتلی زمین سخت ہوگئی اور کافروں کی جگہ دلدل بن گئی۔ لوگوں نے کھلی آنکھوں سے فرشتوں کی مدد کے مظاہرے دیکھے، اس طرح فرشتوں کی عملی مدد سے شیطان کے پھیلائے ہوئے جال اور وسوسے کے سب تار و پود بکھر گئے۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر اس آیت میں ہے





إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّن السَّمَاءِ مَاءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ o
إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلآئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ آمَنُواْ. o

(الانفال : 11، 12)
جب اس نے اپنی طرف سے (تمہیں) راحت و سکون (فراہم کرنے) کے لئے تم پر غنودگی طاری فرما دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں (ظاہری و باطنی) طہارت عطا فرما دے اور تم سے شیطان (کے باطل وسوسوں) کی نجاست کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو (قوتِ یقین) سے مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم (خوب) جما دے
اے حبیبِ مکرم! اپنے اعزاز کا وہ منظر بھی یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں کو پیغام بھیجا کہ (اَصحابِ رسول کی مدد )
کے لئے ) میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں، سو تم (بشارت و نصرت کے ذریعے) ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو



حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں


بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِی اِثْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ اَمَامَه اذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَه وَصَوْتَ الْفَارِسِ فَوْقَه يَقُوْلُ اَقْدِمْ حَيْزُوْم فَنَظَرَ اِلَی الْمُشْرِکِ اَمَامَه فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ اِلَيْهِ فَاِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ وَشُقِّ وَجْهُه کَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَالِکَ اَجْمَعَ فَجَاءَ الْاَنْصَارِیُّ فَحَدَّثَ ذَالِکَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ صَدَقْتَ ذَالِکَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَهِ
(مسلم2 : 93)
’’اس روز ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا تو اس نے اچانک ایک غیبی آواز سنی جیسے کوئی زبردست سوار اپنے گھوڑے کو آگے بڑھنے کا حکم دے رہا ہو کہ اے حیزوم آگے بڑھ! پھر کوڑے کی آواز سنی۔ اسی لمحے مجاہد کے وار سے پہلے ہی وہ کافر بری طرح گرگیا، اس کا چہرہ لہو لہان ہوگیا، ناک پچک گئی، کوڑے کی ضرب سے سر پھٹ گیا۔ وہ انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارا واقعہ بیان کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے سچ کہا یہ تیسرے آسمان کے فرشتوں کی مدد تھی‘‘۔



حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ


رَايْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ اُحُدٍ وَمَعَه رَجُلَانِ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيْضٌ کَاَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَاَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
(بخاری، کتاب المغازی)
میں نے احد کے دن دو شخصوں کو سفید لباس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دیکھا میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا وہ بڑی بہادری سے لڑ رہے تھے


غرضیکہ یہ فرشتے نظام کائنات کے کارکن ہیں اور اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق اسے چلا رہے ہیں۔ رب تعالیٰ نے انہیں مختلف خدمات انجام دینے پر مامور فرمایا ہوا ہے اور طرح طرح کی ذمہ داریاں سونپی ہوئی ہیں۔ زندگی، پیدائش، موت و حیات، راحت و مصیبت، تندرستی و بیماری، خوشی و غم، عزت و ذلت، اقتدار و افلاس اور جو تغیر بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے ان کارکن فرشتوں کے ہاتھوں وقوع میں آتا ہے اور جو اللہ چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ مذکورہ آیات و احادیث میں ان ہی کارکن فرشتوں کی ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
 
Top