شادی کا وعدہ کیا تھا نکاح نہیں

Don

Administrator
Mar 15, 2007
10,994
14,619
1,313
Toronto, Ca
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ایک پریس کانفرنس میں دعوٰی کیا ہے کہ ان کا کسی عائشہ نامی خاتون سے نکاح نہیں ہوا اور یہ سراسر ایک الزام ہے۔
چند دن پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ پر صدیقی نامی ایک شخص کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ شعیب ملک ان کی بیٹی عائشہ سے نکاح کر کے مُکر گئے ہیں۔


شعیب ملک کا کہنا تھا کہ اس الزام سے ان کی عزت پر حرف آیا ہے اور وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔شعیب ملک نے کہا ’چند ماہ پہلے جب وہ بھارت میں تھے تو ایسا کوئی سکینڈل میڈیا پر نہیں آیا اب جانے کہاں سے یہ معاملہ نکل آیا۔‘
پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار ایک میں حیدرآباد دکن کی ایک عائشہ نامی لڑکی سے ان کی انٹر نیٹ اور فون پر دوستی ہوئی۔ ’عائشہ نے اپنی تصاویر بھجوائیں جن میں وہ کافی خوبصورت دکھائی دیں۔ میں نے شادی کا وعدہ کیا تھا لیکن ان سے نکاح نہیں کیا۔ یہ کہنا کہ اس خاتون کو میں طلاق دوں یہ بھی مضحکہ خیز ہے جبکہ میرا اس سے نکاح ہی نہیں ہوا تو میں طلاق کیسے دے سکتا ہوں‘۔
اس پریس کانفرنس میں شعیب ملک کے بہنوئی عمران ظفر بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس سارے قصے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دو ہزار چار میں خود عمران ظفر خاندان والوں کے نمائندے کے طور پر اس لڑکی کو دیکھنے بھارت گئے لیکن اس لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ وہ سعودی عرب چلی گئیں ہیں۔



عمران ظفر نے ہی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دو ہزار پانچ میں جب پاکستان کی ٹیم انضمام الحق کی کپتانی میں بھارت گئی تو اس لڑکی کے والدین سے تو شعیب کی ملاقات ہوئی تاہم انہوں نے کہا کہ عائشہ امریکہ گئی ہے۔
عمران ظفر نے مزید بتایا ’دو ہزار پانچ میں ہی ان کےسعودی عرب میں رہنے والے ایک دوست نے انہیں مطلع کیا کہ سعودی عرب میں ان کے بچوں کے سکول کی ایک معلمہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ شعیب ملک کی منکوحہ ہیں جبکہ نہ تو وہ خوبصورت ہیں بلکہ کافی عمر کی بھی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس خاتون کی تصاویر اپنے دوست کے توسط سے حاصل کیں تو وہ ان تصاویر سے بالکل مختلف تھیں جو شعیب ملک کے پاس پہلے سے موجود تھیں۔ جب یہ صورتحال واضح ہوئی تو شعیب ملک نے اس خاتون سے رابطہ منقطع کر دیا۔ ’اور اب اتنے عرصے کے بعد جو الزام میڈیا کے ذریعے لگایا جا رہا ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔‘
عمران ظفر نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے خود بھارت جائیں گے اور انہوں نے اپنا پاسپورٹ بھی انڈین ہائی کمشن ویزے کے لیے بھیج دیا ہے۔
یاد رہے کہ مارچ سنہ 2005 میں پاکستانی ٹیم کے دورۂ بھارت کے دوران شعیب ملک اور عائشہ نامی ایک خاتون کے تعلق کی خبریں ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تھیں اور اس وقت عائشہ نامی خاتون نے بی بی سی کے نمائندے عمر فاروق کو بتایا تھا ان دونوں کی ملاقات سنہ 2000 میں دوبئی میں اس وقت ہوئی تھی جب شعیب پاکستانی ٹیم کے ساتھ وہاں آئے تھے اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شاپنگ کے لئے دوبئی آئی تھیں۔
عائشہ نے بتایا کہ وہ ایک ہوٹل میں شعیب سے ملیں جہاں وہ کھانا کھانے گئی تھیں اور چلتے وقت اپنی چابیاں وہاں بھول گئیں اور وہ چابیاں انہیں شعیب نے لا کر دیں اس طرح یہ دوستی 2 مئی 2002 کو ٹیلی فون پرنکاح تک پہنچ گئی۔
عائشہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی ایک سہیلی کا بھائی نکاح میں ان کی جانب سےگواہ بنا جبکہ شعیب کی جانب سے ان کے بہنوئی اور کچھ دوست گواہ تھے۔

 
Top