Taliban May Shab-O-Rooz

Don

Administrator
Mar 15, 2007
10,995
14,621
1,313
Toronto, Ca
طالبان میں شب و روز: مینا کی کہانی



پاکستان میں ایک تیرہ سالہ لڑکی مینا نے بتایا ہے کہ کس طرح اس کے خاندان والوں نے اسے خودکش بمبار بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس لڑکی کے بیان کی آزادانہ تحقیقات تو نہیں ہو سکتیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں لڑکی سچ بول رہی ہے اور اس سے مفید معلومات مل سکتی ہیں۔ مینا نے بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیرن کو یہ کہانی سنائی ہے:


’میرا بھائی مجھے کہتا تھا کہ عورت کی جگہ یا توگھر میں ہے یا قبر میں۔ مجھے ہمیشہ گھر میں محدود رکھا جاتا۔
اس نے کہا کہ اگر میں کبھی بھی گھر سے باہر نکلی تو وہ میرا سر کاٹ کر میرے سینے پر رکھ دے گا۔
میرا بھائی مقامی سکول میں جاتا تھا اور اساتذہ اور طلبہ کو پیٹتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جو بھی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ امریکہ کا دوست ہے۔
میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ مجھے اس کا اتنا شوق تھا کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو ڈاکٹر بنے ہسپتال میں موجود پایا۔ میں غریب لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھی، ان کی جو علاج کے لیے فیس نہیں دے سکتے۔
طالبان کمانڈرز ہمارے گھر آتے تھے۔ ہمارے گھر کے ساتھ ہی ایک انڈرگراؤنڈ بنکر تھا جس میں بجلی بھی تھی۔ وہ کنکریٹ کا تھا، بڑا مضبوط۔ اس کے اوپر کاریں چلتی تھیں لیکن کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس کے نیچے کیا ہے۔ اس خفیہ مقام پر وہ خود کش بمباروں کو تیار کرتے تھے۔
زیادہ تر بچے میری عمر کے تھے یا مجھ سے بھی چھوٹے تھے۔ ان کو اس قسم کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا کیونکہ وہ کچھ سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت چھوٹے تھے۔
میں ان لڑکوں کوگاڑی میں بیٹھ کر اپنے مشن پر جاتے دیکھتی تھی۔ وہ اونچی آواز میں اسلامی سی ڈیز لگا کر ان کو تحریک دیتے تھے۔
اور میں سوچتی تھی کہ میرے اللہ اب اور مسلمانوں کو دفنایا جائے گا۔ اور اس کے بعد خبر آتی کہ مزید مسلمانوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔
میرا بھائی اور بھابی بم بناتے تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے بھی یہ بنانا سکھائے گا۔ میں نے کہا مجھے نہیں سیکھنا۔ میں دیکھتی بھی نہیں تھی کہ وہ کیا کرتے تھے۔
میرے والد اور بھائی نے مجھ پر خود کش حملہ کرنے کو کہا۔ وہ مجھ پر یہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔
مینا کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی خیبر بازار کے حملے میں بھی ملوث تھا۔


وہ مجھے کہتے کہ اگر میں ایسا کروں گی تو میں ان سے بہت پہلے جنت میں جاؤں گی۔
وہ مجھے یہ روز کہتے۔ روزانہ۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی جب سے انہوں نے مجھے یہ کہنا شروع کیا۔ میں نے انہیں کہا کہ ان سب لوگوں کا کیا ہو گا جن کو میں ماروں گی؟ وہ سب مسلمان ہیں۔
اور جب میں نے انکار کیا تو انہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ وہ مجھے بلا رکے مارتے رہے۔ انہوں نے میری زندگی جہنم بنا دی۔ میرے لیے خوشی کا ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے جان سے مارنے کے علاوہ میرے ساتھ سب کچھ کیا۔
وہ کہتے تھے کہ بم کسی بٹن یا ٹی وی کے ریموٹ کنٹرول جیسی کسی چیز کے ساتھ لگایا جائے گا۔ ہم آپ کو اس طرح کا ریموٹ دیں گے اور آپ ادھر جائیں گی۔
ہم آپ کو ایک موبائل بھی دیں گے، اور ہم اس فون پر گھنٹی دیں گے، اور ریموٹ دبائیں گے اور آپ بم کے ساتھ ہی اڑ جائیں گی۔
انہوں نے مجھے کہا کہ وہ اتنا زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کریں گے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ مرنے والا مرد تھا یا عورت۔
انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے یہ ضرور کرنا ہے۔
وہ بمباروں کو کسی طرح کی دوائی دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ مسکراتے رہتے تھے۔ جیسے کسی سحر میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مجھے بھی وہ دوائی دیں گے اور اس کے بعد میں ہنستے ہنستے جان دے دوں گی۔ میں اتنا ڈر گئی کہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی چائے اور کھانا بھی خود ہی بناؤں گی۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ میرے کھانے میں کچھ ملا دیں گے۔
انہوں نے میری بہن ناہیدہ کے جسم پر بھی بم باندھ دیا۔ انہوں نے اس کے بازوؤں اور دونوں ٹانگوں پر پٹیاں باندھ دیں۔ اس کو باندھ کر انہوں نے ساری چیزیں اس کے ساتھ لگا دیں۔اس نے میرے بھائی کو کہا کہ بم بہت بھاری ہے اور وہ چل نہیں سکتی۔ اس نے کہا کہ ایک مرتبہ جب وہ کار میں بیٹھ جائے گی تو وہ آرام محسوس کرے گی۔
مینا کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کے روز ان کے گھر میں بہت خوشی منائی گئی


انہوں نے اسے دوائی دی۔ لیکن اس کے بعد وہ زور زور سے میری ماں کے لیے رونا شروع ہوگئی۔ وہ بار بار اس کے پاس جاتی اور اس کے گلے لگ جاتی۔ جب میری بہن نے بم کی طرف دیکھا تو کانپ اٹھی۔
اس کے بعد میرے باپ اور بھائی نے میری ماں کو مارنا شروع کر دیا کہ وہ کیوں لڑکیوں کا مشن سے دھیان بٹا رہی ہے۔
میں نے اپنی بہن کو کہتے سنا کہ مینا کہاں ہے۔ میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ میرا دل یہ نہیں سہہ سکتا تھا۔
جب انہوں نے میری بہن کو کار میں ڈالا تو میری ماں بے ہوش ہو گئی۔ میرے بھائی نے بتایا کہ میری بہن کا حملہ افغانستان میں ہوا تھا۔
میرا بھائی خیبر بازار کے حملے میں بھی ملوث تھا۔ (2009 میں ہونے والے اس حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے)۔ ہمارے گھر میں اس کا ذکر ہوا تھا۔
جب کسی کو کہیں بھیجا جاتا تو وہ نشانے کے متعلق بات کرتے تھے۔
وہ کہتے کہ وہ ایک گروپ کو وہاں بھیج رہے ہیں۔ خود کش بم حملے کے بعد وہ خوشی مناتے۔ وہ ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈالتے جیسے لوگ حج سے واپسی پر کرتے ہیں۔
جب(سابق وزیر اعظم) بینظیر بھٹو ہلاک ہوئیں تو میرے بھائی نے سب لوگوں کو بلانا شروع کر دیا۔ انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ وہ فائرنگ کرتے جاتے اور ساتھ کہتے جانے ’بینظیر ہلاک ہو گئی ہے، بینظیر ہلاک ہو گئی ہے۔‘ اس طری وہ رات گئے تک خوشی سے فائرنگ کرتے رہے۔
ایک دفعہ میرا بھائی کئی سالوں بعد ایک دوست سے ملنے گیا تو اس نے اسے ایک بکری اور ایک موٹر سائیکل تحفے میں دی جسے وہ گھر لے آیا۔
انہیں تحفے میں بکریاں ملا کرتی تھیں کیونکہ انہوں نے بڑی تعداد میں طالبان کے لیے روٹی پانی کا بندوبست کرنا ہوتا تھا۔ میرے بھائی مجھے کہا کہ بکری کا خیال رکھوں۔ ایک دفعہ بکری بھاگ کر گھر سے باہر چلی گئی اور میں دوڑ کر اس کے پیچھے گئی۔
ہمارا گھر ایک ٹیلے پر ہے جس کے نیچے سے ایک ندی بہہ رہی ہے۔ بکری نیچے ندی میں گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گئی۔ اُسی وقت ایک جہاز بہت شور کے ساتھ وہاں آیا اور ہر چیز کانپنے لگی۔(یہ ایک گش شپ ہیلی کاپٹر کا حملہ تھا۔)
جب میں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا تو وہاں سے بہت سا دھواں اُٹھ رہا تھا۔ ہمارا گھر ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ اس وقت مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ میرے گھر کے کتنے افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کتنے زندہ ہیں۔ کیونکہ ہمارے گھر میں اسلحے اور گولے بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اس لیے وہاں سے دیر تک زور دار دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔
پھر میں نے وہاں سے پیدل چلنا شروع کر دیا اور مغرب کی نماز کے وقت میں قریبی قصبے میں پہنچ گئی۔
لوگ کہتے ہیں کہ میرا دل بہت مضبوط ہے۔ مجھے مضبوط ہونا چاہیے۔ میں کیا کر سکتی ہوں؟ اب تو خدا تعالیٰ مجھے مرنے بھی نہیں دے گا۔
اگر مجھے میرا بھائی مل جائے تو میں اسے زہر دے دوں گی اور خود بھی زہر کھا کر مر جاؤں گی۔
طالبان دوسروں کے بچوں کو ذبح کرتے ہیں اور عورتوں کو بیوہ کرتے ہیں۔ انہیں خود بھی یہ مزہ چکھانا چاہیے۔
میں چاہتی ہوں کہ طالبان کو زندہ جلا دیا جائے۔‘


Ap may say kitnay logo ko lagta hai k yeh Kahani Sach hai?
 
Top